قربانی کے جانور کی عمر کم از کم کتنی ہو ؟
(فتوی نمبر 03)
سوال : کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں
علمائے کرام ومفتیان اسلام
قربانی کیلئے بڑے جانور مثلا بھینس پاڑا
گائے بیل کی عمر کم سے کم کتنی ہو ؟
اور چھوٹے جانور جیسے خصی ،بکری کی عمر کم
سے کم کتنی ضروری ہے ؟
عبد الرحمن
جلیشور مہوتری نیپال
الجواب بعون الملک الوہاب :
قربانی کے جانور کی کم از کم عمر کی تفصیل
حدیث پاک میں یوں آئی ہے :
عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه
وسلم لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن۔
( مسلم شریف ،
کتاب الاضاحی ، باب سن الاضحیۃ ، ح: 4967)
یعنی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : تم لوگ (قربانی کا جانور ) ذبح نہ مگر مُسِنَّہ ۔ ہاں
! اگر تمہیں تنگی ہو تو چھ ماہ کا دنبہ ذبح کرو ۔
حدیث پاک میں “مُسِنَّہ” کا لفظ ہے جس کا
معنی بیان کرتے ہوئے امام نووی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں :
" قَالَ
الْعُلَمَاء : الْمُسِنَّة هِيَ الثَّنِيَّة مِنْ كُلّ شَيْء مِنْ الإِبِل
وَالْبَقَر وَالْغَنَم فَمَا فَوْقهَا , وَهَذَا تَصْرِيح بِأَنَّهُ لا يَجُوز
الْجَذَع مِنْ غَيْر الضَّأْن فِي حَال مِنْ الأَحْوَال
( شرح مسلم ، ج : 6 ، ص:
456)
علماے کرام نے فرمایا : مسنہ اونٹ ، گائے
اور بکری میں سے ہر ایک کے ثنیہ یا ثنیہ سے بڑے کو کہتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی
تصریح ہے کہ دنبہ کے علاوہ کوئی بھی چھ ماہ کا جانور کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔
’’ثنیہ‘‘ کی تفصیل
بیان کرتے ہوئے امام فخر الدین اوزجندی رضی اللہ عنہ فتاویٰ قاضی خان میں فرماتے
ہیں :
و الثني من الابل ما اتي عليه خمس سنين و
طعن في السنة السادسة يقال سديس و بازل عام .
و الثني من البقر ما اتي عليه سنتان و طعن
في الثالثة
و الثني من الغنم ما ما تمت له سنة و طعن في
الثانية
( فتاويٰ قاضي خان ، ج : 3 ، ص: 234، 235)
يعنی اونٹ میں ’’ثنی‘‘ وہ ہے جس کے پانچ سال
ہو کر چھٹا سال شروع ہو جائے ، اور گائے میں ’’ثنی ‘‘ وہ ہے جس کے دو سال پورے ہو
کر تیسرا سال شروع ہو جائے اور بکری میں ’’ثنی‘‘ وہ ہے جس کے ایک سال پورے ہو کر
دوسرا سال شروع ہو جائے ۔
درج بالا حدیث پاک اور عبارات فقیہ سے واضح
ہوا کہ قربانی کے جانور کی عمر اونٹ میں پانچ سے ، گائے میں دو سال اور بکری میں
ایک سال ہونا ضروری ہے اس سے کم عمر جانور کی قربانی جائز نہیں البتہ اگر دنبہ چھ
ماہ کا ہو اور وہ سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے ۔ بہار شریعت میں ہے :
قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ
پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں
زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو
کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اوس کی قربانی جائز ہے۔
( بہار
شریعت ، ج: 2 ، ص: 340)
و اللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
رکن شرعی بورڈ آف نیپال
12/ ذو القعدہ 1441ھ
مطابق 5/ جولائی 2020
منجانب؛: شرعی بورڈ آف نیپال